HomeHome  PortalPortal  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  MemberlistMemberlist  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

  میرے وطن کی خوشبو،،

Go down 
AuthorMessage
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 67
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: میرے وطن کی خوشبو،،   Wed Dec 01, 2010 1:52 pm

[QUOTE=عبدالرحمن سید;68585] اپنی سروس کے دوران سالانہ چھٹی تک نہیں‌ لی اب میں بہت تھک چکا تھا، میں نے چھٹی کی درخوست پیش کی جو منظور ہوگئی، اپنی ذمہ داریاں ایک اپنے فیلڈ کے سپروائزر کو دے کر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میں اپنی بیگم اور بچوں سمیت کمپنی کے خرچے پر چھٹیاں گزارنے کیلئے پھر اسی میری پسندیدہ ٹرین تیزگام سے لاھور روانہ ہوگیا، میرے ساتھ چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں، اور اس دفعہ میرا پروگرام لاھور شہر گھومنے کے علاوہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سوات کالام اور مری نتھیا گلی ایبٹ آباد بھی گھومنے کا تھا،!!!!!!! ‌

تیزگام کا سفر تو ہمیشہ ہی سے مجھے پسند تھا اور ہر بار میں نے سفر کیلئے تیزگام کو ہی ترجیح دی، میں نے اپنا تفصیلی پروگرام پہلے ہی سے اپنی کمپنی کو دے دیا تھا، اور کراچی، لاھور، اسلام آباد میں ان کی برانچیں تھیں، اور پاکستان ٹورزم اور اچھے رسٹ ھاؤسس کے علاؤہ ہر بڑے ہوٹل سے سیر و تفریح کی غرض سے آنے والوں کیلئے ان کے بزنس تعلقات ہر علاقے میں بھی تھے، اور یہ تمام ادارے اس کمپنی کے اسٹاف کو رعائیتاً سہولتیں بھی مہیا کرتے تھے اور اب بھی ویسا ہی ہے، کیونکہ ہماری کمپنی کا رینٹ اے کار کے علاؤہ انٹرنیشنل طور پر ٹورز اینڈ ٹریول کا بزنس بھی عروج پر ہے، اور دنیا بھر سے ٹورسٹ پاکستان میں گھومنے پھرنے کی غرض سے ہماری کمپنی سے ہی رابطہ کرکے اپنی سیر و تفریح کے پروگرام کی بکنگ بھی کرتے ہیں،!!!!!!

میرا پروگرام بھی ایک مکمل ٹور پیکیج ہی تھا جو اس کمپنی کی ایک اسٹاف سہولتوں میں سے ایک تھا جس سے ہر سال فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، جب ھم لاھور کے اسٹیش سے باہر نکلے، تو باہر ہی ایک باوردی ڈرائیور ہماری کمپنی کا ایک چھوٹا سا سائن بورڈ لے کر کھڑا تھا جسے میں نے پہچان لیا اس سے مصافحہ کرنے کے بعد اس نے ہمیں اپنی کار تک لے جانے میں راہنمائی کی، اور قلی سے سامان ڈگی کھول کر رکھوایا، اور باقی سب سکون کے ساتھ کار میں بیٹھ گئے، اچھی بڑی ائرکنڈیشنڈ کار تھی اور وہاں کے منیجر نے خاص طور سے میرے لئے بھیجی تھی، اسٹیشن سے سیدھا ہمیں ڈرائیور نے ایک ہوٹل میں پہنچایا جہاں پر ہمارے لئے پہلے سے ہی کمرے بک تھے، اور ہمیں بڑے شاھانہ طور سے ایک پروٹکول کے ساتھ ھوٹل کے کمروں تک لے جایا گیا، اور ڈرائیور نے پوچھا کہ وہ کس وقت حاضر ہوجائے، میں نے اسے شام کا وقت دیا تاکہ جب تک ہم کچھ آرام کرلیں اور کچھ ناشتہ بھی، بھوک بھی سخت لگی ہوئی تھی،!!!!

یہ تو سچی بات ہے کہ پہلی مرتبہ زندگی میں اس طرح کی عیاشی ہورہی تھی، ہمیں تو ہوائی جہاز کا بھی ٹکٹ مل جاتا، لیکن ہمارے سالے صاحب اور انکی نئی نویلی دلہن بھی ساتھ تھیں، اور اس وقت ان کے لئے ٹکٹ علیحدہ سے خریدنا پڑتا، اس لئے ٹرین سے ہی سفر کرنے کو غنیمت جانا، لاھور میں دو دن کا رکنے کا پروگرام تھا، ہوٹل بھی بہت خوبصورت تھا اور کمرے بھی سجے سجائے جو ہم کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے، ہمیں دو کمروں کی اجازت تھی، اس لئے ایک کمرہ ہم نے نئے شادی شدہ جوڑے کو دے دیا تھا اور دوسرے ساتھ کے کمرے میں ہم اپنے چار بچوں کے ساتھ تھے، جو اس وقت چھوٹے چھوٹے سے تھے،ان کے لئے ہوٹل والوں نے بچوں کیلئے اکسٹرا بیڈ بھی ڈال دیئے،!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

ناشتے کے بعد سفر کی تھکان کی وجہ سے اس دن ایسے سوئے کہ شام کو ہی آٹھے وہ بھی ٹیلیفون کی گھنٹی کی آواز پر جو کہ کافی دیر سے بج رہی تھی، دوسری طرف ہماری ڈیوٹی پر معمور ڈرائیور تھے، جو کہ وقت مقررہ پر پہنچ چکے تھے، اب دوپہر کے کھانے کا تو ٹائم نہیں تھا، لیکن بھوک تو لگ رہی تھی، سوچا چلو باہر ہی کھالیں گے، جلدی جلدی تیار ہوئے، اور بیگم نے بچوں کو تیار کیا، برابر کے کمرے سے بچوں کی مامی اور ماموں کی نئی نویلی جوڑی کو بھی بچے پہلے ہی آٹھا چکے تھے، جلدی جلدی ہم سب ھوٹل کی لابی میں پہنچے، اور ڈرائیور کی راہنمائی میں کار کی طرف چل دیئے، میں اپنے بڑے دو بچوں کو لے کر آگے بیٹھا اور پیچھے میری بیگم ایک چھؤٹی بچی کو گود میں لئے اور چھوٹے بیٹے کو مامی نے گود میں بٹھا لیا اور ماموں بھی ساتھ بیٹھ گئے، بچوں کی عمریں 2 سال سے لے کر 8 سال تک کی تھیں، اور ہر ایک میں ڈیڑھ یا دو سال کا فرق تھا، ستمبر 1989 کا زمانہ تھا موسم بھی خوشگوار ہی تھا،!!!!

سب سے پہلے کھانے کیلئے ایک ریسٹورنٹ میں پہنچے، ڈرائیور کو بھی کہا لیکن انہوں نے معذرت کرلی، بھوک سب کو لگی ہوئی تھی، کھا پی کر وہاں سے سب سے پہلے بادشاھی مسجد کی طرف گئے، مسجد میں داخل ہونے سے پہلے مین گیٹ کے ساتھ علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دی، تصویریں بھی ساتھ ساتھ کھینچتے رہے، پھر اسکے بعد مسجد کے سامنے لال قلعہ کے اندر داخل ہوئے اور مغل بادشاھوں کے فن تعمیر کے حیرت انگیز شاھکار کو دیکھا اور قلعہ کے اندر خاص طور سے شیش محل کا اچھی طرح سے جائزہ لیا، اندر کے میوزیم کی نادر نمونے دیکھے، وہاں سے پیدل ہی گھومتے ہوئے ایک بڑی سڑک پار کرتے ہوئے اپنے چھوٹے سے قافلے کے ساتھ مینار یادگار پاکستاں کی طرف نکل گئے، جہاں کہ پاکستان کی قرارداد 1940 کو منظور ہوئی تھی، اوپر جانے کی ہمت تو نہیں ہوئی، لیکن باہر ہی سے اس کا نظارہ کیا اور تصویریں بھی کھینچیں، اور اس کے اطراف کے گارڈن میں کچھ دیر بیٹھ کر کار میں انارکلی بازار میں چلے آئے، لاھور کا اس وقت کا بہت ہی خوبصورت اور مشہور بازار تھا، خیر آج بھی اسی طرح اسکی رونق ہے، مگر اب تو بہت سارے ماڈرن شاپنگ سینٹر بن چکے ہیں،!!!!!

انارکلی بازار سے ہوتے ہوئے ہمیں ڈرائیور علامہ اقبال پارک لے گئے جو کہ بہت ہی خوبصورت پارک تھا اور کچھ فاصلے پر ریس کورس پارک میں جہاں اس کے قریب ہی رنگ برنگے اترتے چڑھتے فوارے چل رہے تھے رات کا وقت تھا تو اور بھی خوبصورت لگ رہے تھے، اس کے علاوہ رات گئے تک کار میں ہی گھومتے رہے اور ڈرائیور جو ایک ہماری فیملی ممبر کی طرح ہی تھے، انہوں نے لاھور کی ہر مشہور جگہ گھمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اسی دوران داتا دربار میں بھی حاضری دی اور اس طرح وقت کا پتہ ہی نہیں چلا اور آدھی رات ہوچکی تھی، فوراً ہی ھوٹل واپس پہنچے، اور ڈرائیور کو کل صبح 10 بجے کا آنے کہہ کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے، خوب تھک چکے تھے، ایسے سوئے کہ صبح سورج نکلنے کے کافی دیر بعد آنکھ کھلی،!!!!

پھر جلدی جلدی تیار ہوکر ھوٹل کے باہر نکلے تو دیکھا کہ ڈرائیور صاحب اپنی کار پہلے سے ہی چمکا کر تیار کھڑے تھے، ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی ہم وہاں سے سیدھے شالامار باغ گئے، پھر دریائے راوی کے پار انارکلی اور آصف جاہ کے مقبروں کو دیکھتے ہوئے اور بھی لاھور کے تاریخی شہر کئے کئی مغل بادشاھوں کی یادگاروں کی سیر کی، اس کے علاوہ ایک ہمارے جاننے والوں کے گھر بھی پہنچے جو “چوبرجی“ کے قریب ہی رہتے تھے،جہاں رات کا کھانا انھوں نے بڑے اہتمام سے ہمارے لئے تیار کیا جسے ہم نے بڑے شوق سے کھایا تین چار دنوں بعد ہمیں گھر کا کھانا نصیب ہوا، وہاں سے سیدھا ہم واپس ھوٹل پہنچے اور دوسرے دن ہمیں بذریعہ بس راولپنڈی روانہ ہونا تھا، اس لئے ڈرائیور نے ہمیں دوسرے دن صبح صبح بس اسٹینڈ پر چھوڑ کر الوداع کہا، وہ بہت ہی اچھے مخلص انسان تھے، انہوں نے ہمارے لاھور کے قیام کے دوران یہ بالکل محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہم کسی اجنبی شہر میں ہیں، وہاں لوگ بھی بہت ہی زندہ دل اور بہت ہی ملنسار تھے، جہاں جہاں گئے سب بہت ہی اچھی طرح سے پیش آئے، اور مہربان اور شفیق رویہ کا برتاؤ رکھا یہ لاھور کا دورہ میں اپنی زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتا، !!!!!!

تیسرے دن ہم لاھور سے بذریعہ بس راولپنڈی پہنچے، اور وہاں سے ٹیکسی کرکے اسلام آباد کے ایک گیسٹ ہاؤس پہنچے جہاں پر ہمارے لئے ایک چھوٹا سا دو کمروں کا اپارٹمنٹ بک تھا، وہاں پہنچ کر تازہ دم ہوئے اور دوپہر کے کھانے کا آرڈر دے دیا، کھانا کھانے سے پہلے ہی میں نے وہاں کے اپنے دفتر کے ہیڈ آفس سے رابطہ کرکے اپنے آنے کی اطلاع دی اور پہلے سے طے شدہ پروگرام کے تحت اپنے پروگرام کی تفصیل انکو بتائی، انہوں نے پہلے ہی سے ہمارے لئے ایک اچھی بڑی ائرکنڈیشنڈ کار ایک ڈرائیور کے ساتھ تیار کرکے رکھی تھی، اس دن تو وقت زیادہ ہوچکا تھا، بس اسلام آباد کی ہی سیر کی جس میں سب سے پہلے فیصل مسجد گئے، پھر دامن کوہ پہاڑوں کے اوپر پہنچے، اور جناح سپر مارکیٹ اور ارجنٹیئنا پارک اس کے علاوہ ارد گرد کے مقامی جگہوں اور پارکس کے علاوہ راول ڈیم ، شکرپڑیاں ساتھ ہی آبپارہ کے ساتھ یاسمین گارڈن بھی خوب تسلی سے گھومے پھرے اور پھر دوسرے دن کا پروگرام بھی ڈرائیور کو بتا کر گیسٹ ھاؤس میں اپنے اپنے کمروں جاکر سو گئے،!!!!

رات کا اکثر ہم بس کچھ ہلکا پھلکا سا ہی کھا لیتے تھے، کوئی کھانے کا خاص اہتمام نہیں کرتے تھے، یا اگر کسی جاننے کے یہاں چلے گئے تو مشکل ہوجاتا تھا کیوں وہ لوگ تو اچھا خاصہ اہتمام کرتے تھے، اور پھر گھر کا کھانا تو ہم بہت شوق سے ہی کھاتے تھے، دوسرے دن سے ہمارا بہت ہی لمبا پروگرام تھا، وادی سوات کالام اور ایبٹ آباد، نتھیا گلی اور واپسی میں مری کے علاقہ جات بھور بن، گھوڑا گلی، جھیکا گلی اور موڑہ شریف جانے کا تھا، ڈرائیور کو تمام ہدائتیں دے چکا تھا اور اسے تمام راستوں اور ہماری رھائیش کی سہولتوں کے بارے مکمل علم تھا، اور بچوں کے ماموں اور مامی بھی بہت خوش تھے کیونکہ ان کا ایک طرح سے ھنی مون بہت خوبصورت طریقے سے منایا جا رہا تھا،!!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ
شکر ہے کہ صبح صبح سب کو اُٹھانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی، کیونکہ گزشتہ رات خوب گھوم پھر کر تھک گئے تھے اس لئے سب کو بہت‌ گہری نیند آگئی تھی، اور جلد ہی سو گئے تھے، ویسے بھی اس وقت عشاء کے بعد زیادہ تر اسلام آباد میں سناٹا ہی ہوجاتا تھا، ابھی ہم ناشتہ کی تیاری ہی کررہے تھے تو ڈرائیور صاحب گاڑی لے کر آگئے، سب نے دو بڑے ھینڈ بیگ میں اپنی اپنی ضرورت کی استعمال کی چیزیں اور پہنے کے کپڑے وغیرہ رکھ لئے تھے، ناشتے سے فارغ ہوتے ہی سب نے مل کر سامان کار کی ڈگی میں رکھا، اور اگلے سفر کیلئے تیار ہوگئے، ڈرائیور کو بھی ہمارے پاکستان کے تمام خوبصورت علاقوں کے راستوں کا بخوبی علم تھا، اور میں ان کا نام بھول گیا ہوں بہت ہی اچھے انسان تھے، انہوں نے ہمارے ساتھ ایک ہی فیملی کی طرح بہت اچھا وقت گزارا،!!!!!

اسلام آباد سے نکلے تو آب پارہ سے ہوتے ہوئے زیرو پوانٹ سے راولپنڈی کی طرف نکلے مری روڈ سے ہوتے ہوئے، اپنے ان تمام علاقوں کو دیکھتے ہوئے بھی جارہے تھے جہاں ہم نے ایک کافی عرصہ گزارا تھا، کمیٹی چوک سے نکل رہے تھے تو دائیں ہاتھ پر ایک سڑک راجہ بازار اور موتی بازار کو جارہی تھی اور بائیں ہاتھ پر موتی محل سینما اور ایک اور سینما تھا، آگے نکلے تو لیاقت باغ کو اپنے سیدھے ہاتھ کی طرف پایا اور اس ہاتھ کی طرف سنگیت سینما اور ریالٹو سینما کو دیکھا، اور آگے کی طرف مریڑ چوک کی طرف کو ایک ریلوئے پل کے دو موہری والے پل کے نیچے سے نکلے، اور سیدھا صدر بازار کے علاقے میں پہنچ گئے، وہاں سے کچھ راستے کے لئے کھانے پینے کی اشیاء کی خریداری کی، اور کھانے پینے کی ساری ذمہ داری ہمارے بچوں کے ماموں نے لی ہوئی تھی، کیونکہ ان کا پہلا پہلا ھنی مون جو تھا، بڑے خوش تھے، وہ اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ اور ہمارے دو چھوٹے بچوں اور ان کی اماں یعنی ہماری بیگم تھیں اور میں تو ڈرائیور کے ساتھ ہی زیادہ تر اپنے دو بڑے بچوں کے ساتھ تمام سفر میں بیٹھا رہا،!!!!!

صدر کینٹ بازار سے نکلے تو پشاور روڈ پر ہماری کار نے رخ اختیار کیا اور اسی موڑ پر میں نے اپنے بچپن کے کینٹ پبلک اسکول کو دیکھا اور اپنے بچپن کی یادوں میں کھو گیا، ابھ ان یادوں میں ہی کھویا ہوا تھا کہ سیدھے ہاتھ کی طرف ریس کورس گراونڈ کو گزرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور بائیں ہاتھ کی طرف قاسم مارکیٹ کا علاقہ تھا جہاں میرا پچپن کھیل کود میں گزرا تھا وہ دن یاد آگئے جب ہمارے والد ہم دونوں بہن بھائی کی انگلی پکڑ کر ہر شام کو پیدل گھر سے ریس کورس گراونڈ میں گھمانے لے جاتے تھے، ساتھ ساتھ میں سب کو اپنی بچپن کی یادوں کے بارے میں بتاتا بھی جارہا تھا، آگے بائیں ہاتھ پر ریڈیو پاکستان کو دیکھا اور اس سے پہلے ایک سڑک جس کا نام چیرنگ کراس تھا، اس کو دائیں طرف گزرتے ہوئے دیکھا جو ویسٹریج کے علاقے کی طرف جاتی تھی، کچھ اور آگے بڑھے تو میرا پہلے کا دفتر نظر آیا جو تین منزلہ تھا اور رھائیش بھی ساتھ ہی تھی، جہاں شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے وقت کی خوبصورت اور خوشگوار یادوں کا سامنا ہو گیا جو چوھڑ کا علاقہ کہلاتا تھا، وہاں کچھ دیر کیلئے رکے اور چند اس وقت کے ملنے والے خاندان سے ملے جو بہت ہی شفیق اور مہربان لوگ تھے، بہت مشکل سے انہوں نے اجازت دی، انہوں نےچائے اور کچھ ناشتہ کا بندو بست کیا ہوا تھا، اس مختصر وقت کی ملاقات کیلئے وہ لوگ بہت ناراض ہوئے، واپسی پر تفصیلی ملاقات کا وعدہ کیا اور وہاں سے نکل پڑے،!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

یہاں پنڈی میں کالج روڈ پر ہماری بیگم کی خالہ کا گھر تھا، وہ ایک اچھی خاصی پرانی حویلی ٹائپ کی تھی، نیچے خالہ اور انکی ساس اور انکی اماں بی اور ساتھ نند اور دو دیور نیچے رہتے تھے، اس کے علاوہ خالہ کے جیٹھ اوپر کے حصے میں اپنے بچوں کے ساتھ رہتے تھے، شروع شروع میں شادی کے بعد سعودی عرب سے 1983 میں جب میرا ٹرانسفر ہوا تھا تو کچھ دنوں کے لئے میں بیگم اور پہلا بیٹا (جس کی عمر اس وقت 8 مہینہ کی تھی)، کے ساتھ اوپر کے ایک کمرے میں بھی رہے تھے، جب مکان مل گیا، تو وہاں سے ٹنچ بھاٹہ چلے گئے تھے، ہماری خالہ کا اب انتقال ہوچکا ھے، اللٌہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے، آمین،!!!! بہت ہی مہمان نواز تھیں اور خاص طور سے میرا بہت خیال رکھتی تھیں، انکے بھی اس وقت چھوٹے چھوٹے پانچ بچے تھے، اب تو ماشااللٌہ سب کی شادیاں بھی ہوگئی ہیں،!!!

ان کے یہاں ہم اکثر ویک اینڈ پر آجاتے تھے، میں تو خالو کے ساتھ باہر انکے ساتھ دوستوں کی طرف نکل لیتا تھا، اور ہماری بیگم خالہ کے ساتھ اڑوس پڑوس کے یہاں چلی جاتیں یا پھر وہ لوگ یہاں آجاتیں بہت ھی اچھا وقت گزرا تھا، میں خالہ کی وہ مہمان نوازی کبھی نہیں بھول سکتا تھا، اکثر کبھی کبھی وہ بھی ہمارے یہاں آجاتیں، اور عید کی نماز پڑھ کر ہم سب ایک ہی جگہ ہمارے گھر اکھٹے ہوجایا کرتے تھے، اور ہم سب ملکر خوب اچھی طرح عید کی خوشیاں دوبالا کیا کرتے تھے،!!!!

کالج روڈ پر ان کا گھر تھا اور وہاں سے موتی بازار، راجہ بازار، تو بہت ہی نزدیک تھے، راجہ بازار سے تو اکثر گھر کا سودا سبزی گوشت وغیرہ لیتے تھے اور موتی بازار ہم اکثر ملکر وہاں عید کی تیاری کیلئے اور ویسے بھی موتی بازار اکثر آنا جانا رھتا ہی تھا، اور جب ہم وہاں جاتے تو ہماری خالہ وہاں کے دہی بڑے اور چاٹ ضرور کھلاتی تھیں، مجھے بھی وہاں کہ دہی بڑے اور چاٹ بہت پسند تھی اور ہماری بیگم تو وہاں کے دہی بڑے اور چاٹ کی دیوانی تھیں، انہی کے گھر سے مجھے یاد ہے کہ تانگہ میں بیٹھ کر کبھی بھاپڑا بازار بھی جاتے تھے اور کبھی ہم کمیٹی چوک جہاں کی مچھلی فرائی تو بہت ہی لاجواب تھی اور کمیٹی چوک سے کچھ ھی فاصلے پر مری روڈ کے ساتھ ھی قصرشیریں مٹھائی کی دکان تھی جس کی مٹھائیاں سب سے زیادہ مشہور تھیں،!!!!

کبھی کبھی ویسے ہی ٹہلتے ہوئے لیاقت باغ بھی پہنچ جاتے تھے، وہاں کے آڈیوٹوریم میں کئی اسٹیج شو بھی دیکھے اور اس وقت بہت ہی معیاری اسٹیج شو ہوا کرتے تھے، کالج روڈ سے ہر طرف جانے کیلئے کئی راستے تھے، اور وہاں سے اگر دور جانا ہو تو زیادہ تر تانگہ میں ہی بیٹھ کر جاتے تھے، جیسے صادق آباد، رحماں آباد، سٹلائٹ ٹاؤن، فیض آباد، وغیرہ تک جو مری روڈ پر ہی واقع تھے، صدر بازار اور ایوب پارک جو مور گاہ شیر شاہ سوری کی جرنیلی سڑک پر واقع ہے، اکثر وہاں بھی گھومنے چلے جاتے تھے، اس کے علاؤہ اسلام آباد کیلئے ہم ویگن یا بسوں کے ذریعے ہی آتے جاتے تھے، اور مری گھومنے کیلئے بھی ویگن اور بس کے زریعہ ھی سفر کرتے تھے، پنڈی میں رہنے والوں کیلئے یہی فائدہ تھا کہ ہر جگہ جانے کیلئے کافی سہولتیں اور ٹرانسپورٹ کا بہت ہی اچھا انتظام تھا، اور اب تو موٹر وے کی وجہ سے بھی سفر کافی آسان ہوگیا ہے، اور ڈائیو کی بسیں تو بہت ہی زیادہ آرام دہ بھی ہیں اور موٹر وے کا سفر تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہم کہیں یورپ میں سفر کررہے ہوں، !!!!!!!

یہ تو وہاں کی کچھ پرانی یادیں تھیں، جو کہ یہاں سے گزرتے ہوئے وہ یادیں تازہ ہوگئی تھیں،!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ
چلئے پھر اپنی کہانی وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے ہم پنڈی سے باہر نکلے،!!!!!!

آگے جیسے ہی بڑھے تو ہمارے بائیں طرف کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کو گزرتے ہوئے دیکھا، بہت ہی پرانی یہ ٹیکسٹائل ملز ہے، جو سہگل برادران سے تعلق رکھتی ہے، ہمارے اس طرح کے تاجر برادری جنہوں نے اپنی خدمات پاکستان کی معاشی حالات کو سدھارنے کے لئے وقف کی ہیں، اگر ان سب کو اور اچھے بہتر وسائل اور سہولتیں حکومت کی طرف سے اور عوام کو تعاون حاصل رہے تو ہمارے ملک کی فلاح بہبود اور ترقی کے لئے یہ ہماری تاجر برادری بہت کچھ کرسکتے ہیں، ورنہ تو یہ بھی غیر قانونی وسائل کو استعمال میں لاکر ملک کی سلامتی کو نقصان بھی پہنچاسکتے ہیں،!!!!!

پشاور روڈ پر ہماری کار دوڑی چلی جارہی تھی اور راستے میں ہم تمام آس پاس کے گزرنے والے مناظروں سے لطف اندوز بھی ہورہے تھے، خوب گب شپ اور ہنسی مذاق بھی چل رہا تھا، ترنول کے موڑ کے ساتھ ساتھ گولڑا شریف کا موڑ بھی ہم نے اپنی نظروں کے سامنے گزرتے ہوئے دیکھا، یہ ساری جگہوں کی معلومات وقفہ وقفہ سے جناب ڈرائیور صاحب ہمیں بتاتے بھی جارہے تھے، بہت ہی نیک اور شریف انسان تھے ایک ہماری اپنی فیملی کی طرح ہی ہمارے ساتھ رہے، اور ہر جگہ اور ہر اس علاقے سے منسلک تمام معلومات ہمیں پہنچا بھی رہے تھے، ان کو کمپنی نے پٹرول اور راستہ کیلئے گاڑی کے اخراجات بھی دیئے تھے، میں نے کئی دفعہ انہیں پیسے دینا چاہے، لیکن انہوں نے انکار کردیا، جواباً یہی کہا کہ آپ ہمارے بڑے سینئر اسٹاف ہیں اور کراچی سے آئے ہیں، آپ ہمارے مہمان ہیں، اور کمپنی مجھے آپ کی خدمت کے لئے تنخواہ اور اس کے علاؤہ خاص مراعات باہر کے دورے کیلئے روز کے حساب سے الگ الاونس بھی دیتی ہے، اور کار کے اخراجات کے لئے الگ سے، اس کے علاوہ ہر ھوٹل میں جہاں گیسٹ کو لاتے ہیں کھانے پینے کے علاوہ مفت رہائیش کا انتظام لازمی ہوتا ہے،!!!! مجھے ان کی ایمانداری اور اس طرح کی مخلصانہ مہمانداری پر بہت ہی زیادہ خوشی ہوئی، کھانا تو جہاں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہم سب مل جل کر کھانا کھاتے، حالانکہ انہوں نے منع بھی کیا، لیکن وہ ایک طرح کے اپنی فیملی ممبر کی طرح تھے، ہمارے اسرار پر انہوں نے ہمارے ساتھ کھانا شروع کیا لیکن کئی جگہوں پر انہوں نے ہمارے منع کرنے کے باوجود بھی اپنے پاس سے خرچہ بھی کیا، انکا آزاد کشمیر سے تعلق تھا اور پنڈی میں مستقل رہائیش پزیر تھے اور ہماری کمپنی میں عرصہ 5 سال سے ڈرائیور اور اسپشل گائیڈ کے فرائض انجام دے رہے تھے، اور وہ اس کمپنی میں بہت ہی خوش تھے،!!!!!!!

خوب ساتھ باتیں کرتے ہوئے، ہم حسن ابدال پہنچے، وہاں پر کچھ شاید کھانے پینے کیلئے رکے تھے، وہاں سے ایک طرف واہ فیکٹری کے علاقے کی طرف جاتا ہپے، اور اس سے پہلے ٹیکسلا کی طرف سڑک رواں دواں تھی، حسن ابدال میں سکھوں کے مقدس مقامات ہیں، اور ٹیکسلا میں پرانے بدھ مذہب کے کھنڈرات اور ایک بڑا میوزیم بھی ہے، جسے ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، اس کے علاوہ واہ فیکٹری کے علاقے میں ہیوی میکینیکل کمپلیکس فیکٹری اور بڑی چھاونی بھی ہے اور مغل بادشاھوں کے زمانے کی اثار قدیمہ کی تعمیرات نادر نمونے موجود ہیں، وہاں پر ایک مغلوں کے زمانے کا مغل واہ گارڈن بھی ہے، وہاں سے ہوتے ہوئے مختلف علاقوں سے گذرتے ہوئے، ہم نوسہرہ کے اٹک کے پل پر پہنچے جو ایک پرانا اور تاریخی پل ہے وہاں کچھ دیر رکے اور پھر مردان کی طرف ہماری کار نے رخ کیا، مردان پہنچ کر کچھ دیر کیلئے وہاں پر کھانے کیلئے رکے، وہاں کا کڑھائی گوشت اور چپل کباب سے لطف اندوز ہوئے، بہت ہی ذائقہ دار پکا ہوا تھا، آپکو زیادہ تر کڑھائی گوشت اور چپلی کباب کے پکوان بہت ہی ذائقہ دار سرحد کے علاقوں میں ہی ملیں گے، اس کے علاوہ یہاں کی پشاوری چائے جو کیتلیوں میں ملتی ہے، وہ بہت ہی مزیدار اور پینے کا ایک الگ ہی لطف آتا ہے،!!!!!!

مردان کے علاقے سے نکلے تو ہم سوات کی حسین وادیوں میں پہنچ گئے، شام ہونے والی تھی سردی کچھ بڑھتی جارہی تھی، فوراً ہی ہم نے بچوں کو گرم کپڑے پہنائے، اور خود بھی پہن لئے، ڈرائیور ہمیں ایک جگہ جس کا نام مرغزار تھا وہاں لے گئے وہاں پر والئے سوات کا سفید محل دیکھا جو اب ایک ہوٹل میں تبدیل ہوچا تھا، وھاں پر ہی ہمارے ٹہرنے کا انتظام تھا، معمول کے مطابق وہان پر دو کمروں میں ہم لوگ پہلے ہی کی ترتیب سے پہنچ گئے، بہت ہی گرم خوبصورت کمرے انگیٹھیاں لگی ہوئی، یہاں پہنچ کربہت تھک چکے تھے، اس لئے سب کمبلوں میں گھس گئے، اور ایسے سوئے کہ صبح ہوئی تو ہی آنکھ کھلی،!!!!!!

ٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔٔ

ناشتہ سے فارغ ہو کر ادھر ادھر پہاڑوں میں چہل قدمی کی، مرغزار کے اس علاقے میں سفید محل کے آس پاس کی خوبصورت وادیوں کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ جیسے ہم کسی طلسماتی جگہ پر آگئے ہیں، یہ میرے لئے تو پہلا موقعہ تھا، صبح صبح وادیوں میں پرندوں کی چہچہانے کی آوازیں کانوں میں ایک سریلی میٹھی سر بکھیر رہی تھیں اور ایک سحر انگیز منظر اور رومان پرور کا سا سماں چاروں طرف پھیلا ہوا تھا، دل چاہتا تھا کہ انہی حسین وادیوں میں کھو جائیں، دل تو نہیں چاہتا تھا کہ وہاں سے واپس جائیں، لیکن مجبوری تھی کیونکہ ابھی ایک لمبا سفر باقی تھا، اور بھی حسین اور خوبصورت مناظروں کو دیکھنے کی دل میں ہل چل مچی ہوئی تھی اور خوب سے خوب تر کی تلاش تھی،!!!!!

مرغزار سے نکلے تو سیدھا سوات کے مین بازار میں پہنچے، وہاں کچھ دیر کیلئے گھومے کچھ وہاں کی ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں دستکاری کے خوبصورت نمونے اورخوبصورت تراشے ہوئے ھیرے بھی دیکھے، ہمارے سالے صاحب کو ان قیمتی پتھروں سے کچھ زیادہ ہی لگاؤ تھا، اور کچھ خریداری بھی کی، وہاں سے ہوتے ہم “میاں دم“ کے علاقے میں پہنچے، وہاں کے پاکستان ٹورزم کے ہوٹل میں کچھ دیر رک کر چائے کا آرڈر دیا اور وہاں سے تمام سوات کے علاقوں کی خوبصورتی کو اپنی انکھوں میں سماتے رھے، کیا حسین مناظر تھے، ہر جگہ کا اپنا ہی ایک حسن تھا، وہاں سے نکلے تو سیدو شریف میں کچھ دیر گھوم کر مینگورہ کے ساتھ دریائے سوات کے کنارے ہم کچھ دیر کیلئے گاڑی ایک طرف کھڑی کی اور دریا کے کنارے آس پاس کی خوبصورت وادیوں کے حسن میں کھوئے رہے، نہ جانے پھر کب ہمیں قسمت لے کر آئے، مینگورہ میں کافی دیر تک ٹھرے، اور کھانا وغیرہ کھایا، اس کے بعد کالام جانے کیلئے ڈرائیور ہمیں لے کر چل پڑے، راستہ میں خواجہ خیلہ سے ہوتے ہوئے مدین اور بحرین کی وادیوں کے پاس تھوڑی دیر کیلئے رکے، وہاں بھی شور مچاتے ہوئے دریاؤں اور ان پر لٹکے ہوئے رسیوں کے جھولتے ہوئے پلوں کو دیکھا، بہت ہی خوبصورت مناظر کی عکاسی کررہے تھے،!!!!!!

مدین اور بحرین میں وہاں کے دریاؤں کی تازہ مچھلی بھی کھائی، کچھ اچھی خاصی ٹھنڈ بھی تھی، اور گرما گرم تلی ہوئی مچھلی مھا شیر اور ٹراونٹ مچھلی کے ذائقے نے تو اور بھی ماحول کو گرما دیا تھا،!!!!!

وہاں کچھ دیر رکے اور پھر کالام کیلئے روانہ ہوگئے، ہم چاہتے تھے کہ شام سے پہلے وہاں پہنچ جائیں، لیکن افسوس تو یہ ہوا کہ آگے جانے کے راستے بارش کی وجہ سے مٹی کے تودے گرنے کے باعث بند ہوچکے تھے، وہاں سے ہم نے اپنا سفر مختصر کیا اور مایوسی کی حالت میں وہیں سے واپسی ہوئی، اور مینگورہ سے ہوتے ہوئے ہم شاہرا ریشم کی طرف نکل پڑے، اونچے اونچے پہاڑوں کے ساتھ ساتھ سلک روڈ اور ساتھ ہی دریائے سوات بھی ایک خوبصورت مناظر پیش کررہا تھا، اب ہمارا رخ ایبٹ آباد کی طرف تھا، شام ہوچکی تھی “بیشام‘ کے پاکستان ٹوریزم کے ایک چھوٹے سے مرکز میں کچھ منہ ہاتھ دہو کر تروتازہ ہوئے اور وہان سے ہم ایبٹ آباد کیلئے روانہ ہوگئے، رات ہوچکی تھی ہم سب بہت تھک چکے تھے صبح صبح کے نکلے ہوئے، کہیں بھی آرام نہیں کیا، رات گئے تک ہم آیبٹ اباد پہنچ چکے تھے جہاں ہمارے جاننے والے رہتے تھے، تھوڑی سی تلاش کے بعد ان کا گھر مل گیا، وہ لوگ تو بہت ہی زیادہ خوش ہوئے، اور رات کے کھانے کا خاص طور سے بندوبست کیا، کھا پی کر عورتیں اور بچے تو الگ ہی آپس میں مصروف گفتگو رہیں، اور ہم دونوں بھی سب کے ساتھ بیٹھک میں گپ شپ کرتے رہے،اور وہیں پر ہم نے رات بسر کی تھکے ہوئے تھے نیند کا غلبہ تھا خوب سوئے، صبح کافی دیر میں اٹھے،!!!!!

یہ سب لوگ ہماری سسرال کے پڑوسی تھے جو کراچی میں رہتے تھے، اور ان سے بہت اچھے تعلقات تھے، اب بھی کراچی میں آنا جانا رہتا ہے، اور اب تو ہمارے ایک اور سالے صاحب کی شادی ایبٹ آباد کی ہی ایک فیملی میں ہوئی ہے، جو ہندکو زبان اچھی طرح بولتے ہیں، !!!! دوسرے دن دوپہر کے کھانے سے فارغ ہوکر انہوں نے ہمیں ایبٹ آباد کی سیر کرائی، ایبٹ اباد بھی پہاڑوں میں گھرا ہوا خوبصورت علاقہ ہے، مری اور سوات کی طرح خوبصورت وادیاں ہیں، اس وقت بھی اچھی خاصی ٹھنڈ تھی، پھر اس دن تو ویسے ہی گھومتے پھرتے شام ہوگئی تھی تو دوسرے دن ایبٹ آباد سے ہم نے نتھیا گلی جانے کا پروگرام بنایا، اور وہاں سے مری کے علاقے بھوربن اور جھیکا گلی کی طرف رخ کرنا تھا، کیونکہ جھیکاگلی میں بھی ہمارے پرانے جاننے والے رہتے تھے، اور شام تک ان کے گھر پہنچنا چاہتے تھے، ہمارے ڈرائیور صاحب بھی ماشااللٌہ بہت اچھے پہاڑوں میں گاڑی چلانے کے ماھر تھے، اور ان تمام پہاڑی علاقوں کی کافی معلومات تھیں، اور انہیں کی وجہ سے ہم سب نے اس یادگار سفر سے خوب اچھی طرح لطف آٹھایا، !!!!!!!!!!

دوسرا حصہ ایک دوسری نشست مین ملاحظہ فرمائے،!!!!!![/QUOTE]

Back to top Go down
 
میرے وطن کی خوشبو،،
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: اردو ادب اور شاعری :: اردو نثر :: آپ کی تحاریر-
Jump to: