HomeHome  PortalPortal  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  MemberlistMemberlist  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

 آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم

Go down 
AuthorMessage
نعیم
محسن
محسن


Posts : 317
Join date : 29.11.2010

PostSubject: آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم   Thu Dec 09, 2010 2:03 am


آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرآنی آیات کی روشنی میں ایک جھلک


السلام علیکم ۔

قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے بہت سے مقامات پر اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت انتہائی خوبصورت انداز میں واضح فرمائی ہے۔ جس سے ہمارے آقا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و رفعت اور بارگاہِ الہیہ میں کمال شانِ محبوبیت آشکار ہوتی ہے۔ مثلاً سورۃ الفتح کی آیت نمبر 10 میں اللہ تعالی نے فرمایا ۔۔

. إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَى بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًاO

(اے حبیب!) بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ ہی سے بیعت کرتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر (آپ کے ہاتھ کی صورت میں) اﷲ کا ہاتھ ہے۔ پھر جس شخص نے بیعت کو توڑا تو اس کے توڑنے کا وبال اس کی اپنی جان پر ہوگا اور جس نے (اس) بات کو پورا کیا جس (کے پورا کرنے) پر اس نے اﷲ سے عہد کیا تھا تو وہ عنقریب اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گاo

متوسس و متذبذب اذہان کا المیہ ۔

ہمارے کچھ مخصوص فکر کے حامل کلمہ گو مسلمان جو عام طور پر اللہ تعالی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کو جدا جدا سمجھتے پھرتے ہیں۔ بارگاہ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نعت خوانی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف و ثنا پر ُ ُ غلو اور حد سے بڑھ جانے بلکہ شرک‘‘ تک کا فتوی لگا دیتے ہیں۔ اور الزام لگایا جاتا ہے کہ محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تعریف و ثنائے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرنے والے ، اور رفعت و علوِ مقامِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرنے والے ، معاذاللہ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب تعالی سے ملا دیتے ہیں۔

ایسے متوسوس و متذبذب ذہنوں کے لیے اللہ رب العزت نے یہاں مقام ِ فکر دیا ہے کہ ۔۔

حضور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کوئی تعلق باللہ تعالی کے خلاف یا جدا چیز نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ، کوئی اللہ کا غیر یا معاذاللہ مخالف نہیں ہے۔ بلکہ قرآن حکیم کے اس مقام سمیت متعدد مقام پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی بھی معاملے کو اللہ رب العزت نے خود اپنے ساتھ معاملہ قرار دے کر یہ واضح کیا کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شانِ محبوبیت یہ ہے کہ اے لوگو ! جو معاملہ تم میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہو۔ میں اسے اپنے ساتھ معاملہ قرار دیتا ہوں۔ اے میرے محبوب نبی کے صحابہ ! تم نے بیعت میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کی ۔ لیکن میرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کرنا دراصل خود اللہ سے بیعت کرنا ہے۔ میرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عہد و پیمان کرنا خود اللہ رب العزت سے عہد و پیمان کرنا ہوا ۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا مقامِ بندگی پر عاجزی کا اظہار ..ایک غلط فہمی کا ازالہ

اہم نکتہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف محبوبِ خدا ہی نہ تھے۔ بلکہ امت کے لیے اسوہء کامل بھی تھے ۔ اور اسوہ کامل اس وقت تک نہیں بن سکتے تھے جب تک اللہ رب العزت کی بارگاہ میں بندگی کی انتہا تک نہ پہنچتے ۔ اور بندگی کی انتہا بارگاہ الہیہ میں عاجزی کی انتہا سے ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے مقام بندگی پر فائز ہوتے ہیں تو عجز و انکساری کی انتہا ظاہر فرماتے ہیں۔ کہ مولا ! میں تو کچھ بھی نہیں۔ نہ میرا علم، نہ میری دانش، نہ میرا ادراک، اے اللہ کریم سب کچھ تیری عطا ہے۔ مولا ! میں تو تیرا عاجز عبادت گذار بندہ ہوں۔ مجھے تو کوئی طاقت و اختیار نہیں ، جو کچھ ہے تو ہی قادرِ مطلق ہے (او کما قال ) ۔
ہمیں بطور امتی ، عبادات، مناجات، بارگاہ الہی میں خود کو پیش کرنے کے طریقے سکھانے کے لیے یہ ساری تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں اور ہمیں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں خود کو بھی اسی عاجزی کا مظہر بننا چاہیے۔ بلاشبہ تعلیماتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کے لیے ذاتِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی پہلو اہمیت کا حامل ہے۔

مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عاجزی کو " مقام و عظمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم " ہرگز نہیں سمجھنا چاہیے۔ جب ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و رفعت کو سمجھنے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلقِ غلامی قائم کرنا پیش نظر ہو اور ایمان کی اصل حلاوت حاصل کرنا مقصود ہو ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پرایمان و عقیدہ قائم کرنے کا وقت آئے تو پھر ہمیں ذاتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ پہلو دیکھنا ہوگا جو اللہ رب العزت ہمیں قرآن حکیم میں دکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الہی میں اپنے مقام بندگی پر کھڑے ہوکر اتنی طویل عبادت کرتےہیں کہ قدمین شریفین متورم ہوجاتے ہیں۔ یہ بندگی کی انتہا ہے۔ ہمیں بطور امتی جب بارگاہ الہی میں آداب بندگی بجا لانا ہو تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی اسوہ کامل کی پیروی کرنا ہے۔ لیکن جب مقام اور شان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعین کرنا ہو اور عظمت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو قلب و روح میں جانگزیں کرنے کا مرحلہ ہو تو پھر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمین شریفین متورم ہونے پر بارگاہ الہیہ سے کیا جواب اور رد عمل آتا ہے ۔

آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم

قرآن مجید کو بنظر غور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اور مقام شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الہی میں اپنے مقام بندگی پر کھڑے ہوکر اتنی طویل عبادت کرتےہیں کہ قدمین شریفین متورم ہوجاتے ہیں۔ اس پر بارگاہ الہیہ سے حضرت جبریل علیہ السلام کو اتارا جاتا ہے۔ قرآن بنایا جاتا ہے کہ ۔۔

مَا اَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىO (القرآن ۔ ۲۰:۲)
(اے محبوبِ مکرّم!) ہم نے آپ پر قرآن (اس لئے) نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیںo

قربان جائیں ۔ اللہ رب العزت نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان محبوبیت کو کتنے خوبصورت اور محبت بھرے انداز میں واضح فرمایا ہے ۔ اللہ رب العزت کو اپنے حبیب کا مقام بندگی بھی پسند ہے لیکن اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا مشقت میں پڑنا اور طبیعت مقدسہ پر بوجھ پڑنا بھی گوارا نہیں فرماتا اور فوراً قرآن نازل فرما دیا کہ پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم رات کی عبادت اتنی ہی فرمایا کریں کہ جتنا طبعیت مبارکہ پر بوجھ نہ بنے ۔ایسا ہی اظہار محبت کا مضمون قرآن مجید کی سورہ مزمل میں بھی ہمیں ملتا ہے ۔ یہ تخصص بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنے محبوب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا ہے۔

اللہ حکیم و خبیر نے اپنے حبیب مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقامِ قرب و وصل اپنی بارگاہ میں یوں واضح فرما دیا کہ تمہارے ہاتھوں کے اوپر جو ہاتھ بظاہر تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ دیکھ رہے تھے ۔ مگر سنو ! وہ اللہ کا ہاتھ تھا۔
اب عقل پرست ۔ علم پرست ۔۔ اپنے علم و عقل کے گھوڑے دوڑاتے پھریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ ، اللہ کا ہاتھ کیسے ہوگیا ؟ اگر علم و عقل کی وادی میں رہے تو گمراہی مقدر ہوجائے گی ۔ اور معرفت حق کبھی نصیب نہ ہوگی ۔

اگر قرب و عظمتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سمجھنا ہے تو محبت و معرفتِ مقامِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بارگاہ الہی میں التجا کرنا ہوگی۔ دل میں محبت و عظمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چراغ جلانا ہوگا۔ اور ذکر و ثنائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا ۔
اور یہ معرفت حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس نظر سے دیکھو ۔ جس سے اللہ تعالی اپنے محبوب کو ہمیں دکھانا چاہتا ہے۔ جس جس شان سے اللہ رب العزت اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف ہمیں کرواتا ہے ۔

کبھی شہرِ ولادتِ مصطفیٰ (مکہ) کی قسم کھا کر،
(لا اقسم بھذالبلد۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم کی عمر مبارک کی قسم کھا کر
(لعمرک۔۔ القرآن)
بلکہ اللہ رب العزت تو اپنی قسم بھی خود کو ربِ مصطفیٰ کہہ کر کھاتا ہے
(فلاوربک لا یومنون حتیٰ یحکموک ۔۔۔ القرآن)
کبھی مقام قاب قوسین او ادنیٰ پر بٹھا کر
(ثم دنی فتدلی فکان قاب قوسین او ادنیٰ۔۔ القرآن)
تو کبھی ذکرِ محبوب کو انتہائی بلندی دے کر
(ورفعنالک ذکرک۔۔ القرآن)
کبھی کائناتِ ارض و سما کی ہر کثرت عطا کرکے
(انا اعطینٰک الکوثر۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دے کر
(یداللہ فوق ایدیھم ۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم پر سبقت لےجانے کو خود پر سبقت لےجانا قرار دے کر
( لا تقدمو بین یدی اللہ ورسولہ ۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم کی اطاعت کو اپنی (اللہ کی) اطاعت قرار دے کر ،
(ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ ۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم کی رضا کو اپنی (اللہ کی) رضا قرار دے کر ،
(واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم کو دھوکہ دینے کو خود (اللہ کو) دھوکہ دینا قرار دے کر
(یخدعون اللہ والذین امنو۔۔القرآن)
کبھی حضور اکرم کو اذیت دینے کو خود اللہ کو اذیت دینا قرار دے کر
(ومن یشاقق اللہ ورسولہ ۔۔۔۔ وفی المقام الآخر ۔۔۔ والذین یوذون اللہ ورسولہ ۔۔ القرآن)
کہیں حضور اکرم کو عطاکردہ دائمی علم الہی کے فیض کا ذکر فرمایا
(سنقرئک فلا تنسیٰ ۔۔ القرآن)
کہیں حضور اکرم کو عطائے الہی کے فیض سے علم غیب کی وسعتوں کا ذکر فرمایا
(وما ھو علی الغیب بضنین ۔۔ القرآن)
کبھی حضور اکرم کو روز قیامت ، بعد از خدا سب سے اعلی مقام و منصب " مقام محمود " کا وعدہ دینا
(عسیٰ ان یبعثک ربک مقام محمودا ۔۔ القرآن)
بلکہ اللہ رب العزت تو حضور اکرم کو ہر وقت نگاہِ الہی میں رکھنے کی بات بھی قرآن میں فرماتا ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا ۔۔ وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۔۔۔۔ (الطُّوْر ، 52 : 48)
اور (اے حبیبِ مکرّم! اِن کی باتوں سے غم زدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھئے بیشک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں
گویا اللہ رب العزت فرما رہے ہیں کہ محبوب اگر ان ظالموں نے نگاہیں پھیر لی ہیں تو کیا ہوا، ہم تو آپ کی طرف سے نگاہیں ہٹاتے ہی نہیں ہیں اور ہم ہر وقت آپ کو ہی تکتے رہتے ہیں۔
اور پھر اللہ تعالی نے اپنے محبوب کو مقامِ رفعت کی اس انتہا پر پہنچا دیا کہ جس پر اور کوئی نبی ، کوئی پیغمبر، کوئی رسول نہ پہنچا ، نہ پہنچ پائے گا۔ وہ مقام ہے ۔ رضائے مصطفیٰ بذریعہ عطائے الہی
اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کریم سے خطاب فرماتے ہوئے وعدہ فرمایا
ولسوف یعطیک ربک فترضی ٰ (القرآن ۔۔ سورۃ الضحا )
اے محبوب ! عنقریب یقیناً آپکا رب آپکو اتنا عطا کرے گا حتیٰ کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔

اللہ اکبر۔
دوستانِ محترم ! ذرا سوچنے کی بات ہے۔ ہم عام مسلمان ہی کیا۔ ساری دنیا، ساری کائنات، سارے اولیا، سارے صالحین، سارے اتقیا و اصفیا ، سارے انبیاء و رسولانِ مکرم (علیھم السلام) ، رضائے الہی کے متلاشی ہیں۔
اور خود اللہ رب العزت اپنے محبوب کی رضا کے لیے اپنی عطائیں نچھاور فرمانے کے وعدے فرما رہا ہے۔
سچ کہا کسی شاعر نے کہ ۔۔

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد

اور پھر علامہ اقبال رحمۃ اللہ تعالی نے بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے سمندرِ معرفت کو کوزے میں سمیٹا تھا

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا ، لوح و قلم تیرے ہیں

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمارے دلوں میں اپنے حبیب کریم کی سچی و پختہ محبت کا ایسا بیج بوئے جس سے ایمان کامل کا پودا اگے، پھر ہمیں اتباعِ مصطفیٰ کی دولت عطا کرے جس سے ایمان کا پودا تناور شجر بن جائے ۔ جس کے سایہ پربہار سے نہ صرف ہم خود بلکہ اور لوگ بھی فیضیاب ہوں۔ پھر اس پر معرفتِ مقام ِ مصطفیٰ کا ایسا پھل لگے کہ ہمیں اللہ رب العزت کی رضا نصیب ہوجائے۔ قبر میں پہچانِ چہرہء مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہو اور روز قیامت شفاعتِ مصطفیٰ کا سایہ نصیب ہو جائے۔ آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین

اللہ رب العزت اس حقیر نذرانہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور میری تمام تقاصیر و خطائیں معاف فرمائے۔ امین

والسلام علیکم ۔
Back to top Go down
ھارون رشید
ماہر
ماہر
avatar

Posts : 1369
Join date : 28.11.2010
Age : 44
Location : اوکاڑہ شریف

PostSubject: Re: آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم   Thu Dec 09, 2010 2:20 pm


__________________________________________________________________________________________________
sleepy
Back to top Go down
http://friends.forumotion.com/index.htm
khokher
Admin
avatar

Posts : 960
Join date : 26.11.2010
Location : LAHORE

PostSubject: Re: آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم   Fri Dec 10, 2010 1:09 pm

jaza

__________________________________________________________________________________________________

محبت سب کیلئے نفرت کسی سے نہیں
Back to top Go down
http://myforum1.tk
Munawar
معاون
avatar

Posts : 72
Join date : 29.11.2010
Age : 34
Location : okara

PostSubject: Re: آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم   Sun Dec 19, 2010 2:56 pm

جزاک اللہ ۔
Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم   

Back to top Go down
 
آئینہء قرآن میں مقامِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: اسلام :: قرآن و حدیث-
Jump to: