HomeHome  PortalPortal  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  MemberlistMemberlist  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

 کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!

Go down 
AuthorMessage
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 68
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Mon Dec 20, 2010 12:14 pm

مجھے اب یہ سوچ کر کبھی کبھی حیرانگی بھی ہوتی ہے، کہ یہ بالکل کل کی ہی بات لگتی ہے، جب 1979 میں میری شادی ہوئی اور اللٌہ تعالیٰ کے کرم سے پہلے بیٹے کی پیدائش نے 21 دسمبر 1981 کو ہمارے گھر میں ایک خوشی کا سماں باندھ دیا،!!!! جسے میں نے اپنی کہانی یادوں کی پٹاری میں ایک تحریر کا روپ بھی دیا، !!!!!

آخر وہ خوشخبری کا دن بھی آگیا کہ جس دن ھمارے گھر ایک ننھا مہمان کے آنے کی امید تھی، مجھے تو بہت ہی مشکل سے چھٹی ملی، میں تو فوراً ہی وہاں سے ایمرجنسی چھٹی پر پاکستان پہنچ گیا، پہچنے سے ایک دن پہلے ہی یعنی 21 دسمبر 1981 کو بیٹے کی ولادت ہوچکی تھی، مجھے نہیں بتایا گیا، کیونکہ میں ننھے مہمان کی آمد سے پہلے پہنچنا چاہتا تھا، خیر کراچی ائرپورٹ پر سب موجود تھے، وہاں پر سب لوگ مجھے مبارکباد دینے لگے، میرا تو خوشی کے مارے کوئی ٹھکانا ہی نہیں تھا، !!!!!!!!

ائرپورٹ سے گھر تو مجھے سب لے آئے، مگر اسپتال جانے کیلئے کہا گیا کہ شام تک چلیں گے، ابھی کھانا وغیرہ تو کھا لیں، اور کچھ تازہ دم بھی ہوجائیں، سردی بھی اچھی خاصی تھی، مگر میں تو بے چین تھا کہ پہلے اپنے بیٹے کو دیکھوں، ایک عجیب سا احساس انجانی سی خوشی میں اپنے اندر محسوس کررہا تھا، پہلی اولاد کی خوشی کا وہ احساس آج بھی مجھے یاد ہے، کتنا خوشگوار وہ حسین دن تھا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، ہر ایک کے چہرے پر مسکراھٹ اور ہر کوئی خوشیوں سے پھولا نہیں سما رہا تھا، والدہ تو شاید اسپتال میں اپنی بہو کے پاس تھیں، والد کو تو بس میں کیا کہوں انکی خوشی سے کھلے ہوئے چہرے کو دیکھ کر میں بھی بہت خوش تھا، اور کیوں نہ ہو ان کے یہاں پہلا پہلا پوتا جو اللٌہ نے دیا ہے،!!!!!

کھانا بھی خوشی کے مارے کھایا نہیں گیا، مجھے تو شرم آرہی تھی کہ میں والد سے کہوں کہ مجھے اسپتال لے چلو، اور سب بہن بھائی مجھے کہہ رہے تھے، کہ اباجی سے پوچھو اور چلو، میری تو ہمت ہی نہیں پڑ رہی تھی، اور دل تو ویسے بہت بے قرار تھا، ایک اور محلے کی خالہ آئیں اور کہا، ارے بیٹا تم ابھی تک اپنے بیٹے کو دیکھنے کے اسپتال نہیں گئے، !!!! ابھی میں کچھ کہتا ادھر اباجی فوراً بول پڑے، اسپتال میں شام کو ملنے کے اوقات ہوتے ہیں، بس تھوڑی دیر میں چلتے ہیں،!!!

میں تو اس وقت بھی والد صاحب سے بہت ڈرتا تھا، میں تو مجبور تھا اور سارے میرے پیچھے پڑے تھے، آدھے تو پہلے ہی سے اسپتال میں ہماری والدہ کے پاس تھے، اور ہم یہاں بیٹھے ابا جی کے حکم کا انتظار کررہے تھے، آخر بڑی بی نے تنک کر کہا کہ،!!!! تم تو اب ایک بیٹے کے باپ ہوگئے ہو، اب ایسا بھی کیا ڈرنا، چلو میرے ساتھ چلو،!!!!

میں نے کہا کہ نہیں اباجی کے ساتھ ہی سب کو لے کر جاؤنگا،!!!! اور پھر تو وہ بڑی بی خود ہی یہ کہتی ہوئی نکل پڑیں، کہ میں خود ہی چلی جاؤنگی،!!!! اور وہ کسی ایک میرے بھائی کو لے کر چلی گئیں اور گھر پر شاید میرے ساتھ ایک بہن اور بھائی ہی گھر میں موجود تھے،باقی سب اسپتال ہی میں رونق جمائے ہوئے تھے، اور ہم تینوں یہاں اباجی کے حکم کا انتظار کر رہے تھے،!!!!

ہم سب تو تیار ہی تھے، ابا جی بڑی مشکل سے اٹھے، اور کہا کہ،!!! میں کہے دیتا ہوں میرے پوتے کا نام میں اپنی مرضی سے رکھونگا، کیونکہ سب لوگ نئے نئے ماڈرن نام رکھنے کے چکر میں ہیں،!!!! میں تو کچھ نہ بولا خاموشی سے گردن ہی ہلا دی، اور پھر بس اسٹاپ کی طرف چل دہیے، دو بسیں بدل کر ہم سب تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اسپتال پہنچے، وہاں پر مجھے باھر باغیچہ میں سب لوگ مل گئے، خوب گھما گھمی لگی ہوئی تھی، سب کے مزے آرہے تھے، رونق لگی ہوئی تھی، میں تو بھائی کے ساتھ ہی زچہ بچہ وارڈ میں پہنچ گیا، وہاں ہماری اماں اور ساس صاحبہ کو دیکھا اور بچہ تو ایک جھولے میں تھا فوراً ہی بچے کی نانی نے اُٹھا کر مجھے دکھایا، اور میں تو بس دیکھتا ہی رہ گیا، کہ آج دیکھو میں بھی صاحب اولاد ہوگیا کل یہ بڑا ہوگا مجھے ابو ابو کہہ کر پکارے گا، ان چند لمحات میں نہ جانے اپنی سوچوں کو کہاں سے کہاں لے گیا،!!!!!

اسی بچے کو دیکھتے ہوئے بیگم کی طرف دھیان بالکل نہیں گیا، فوراً ہی ادھر اپنی بیگم کو دیکھا، انہوں نے تو اپنا چہرے کو چادر میں ہی چھپایا ہوا تھا، شاید وہ مجھ سے ناراض لگتی تھیں، یا شرما رہی ہونگی، میں نے پوچھا کہ کیا بات ہے ہم سے کس بات کا پردہ، !!!!! تو انکی ایک سہیلی نے جواباً کہا کہ،!!! جناب کچھ خبر بھی ہے آپ نے اپنا وعدہ نہیں نبھایا،،!!! میں نے پوچھا کہ وہ کونسا وعدہ، !!!! جواب ملا کہ،!!! آپ جو تاخیر سے پہنچے ہیں،!!!! میں نے کہا کہ،!!! بھئی کیا کرسکتا ہوں مجبوری تھی، سیٹ ہی آج کی ملی تھی اور مجھے کیا خواب آیا تھا کہ صاحبزادے میرے آنے سے پہلے ہی وارد ہوجائیں گے،!!!!!!

سامنے سے والد صاحب وارڈ میں داخل ہوئے، اور سب طرف خاموشی ہوگئی، آتے ہی انہوں نے اپنا اعلان صادر فرما دیا، کہ میں نے اس بچے کا نام آج سے “سید حبیب الرحمٰن“ رکھا دیا ہے، مجھے تو یہ نام اچھا ہی لگا تھا اور سب لوگوں کو بھی بہت پسند آیا، جبکہ کچھ تو پہلے ہی اسکا نام “سید ذیشان“ رکھنے کا سوچ رہے تھے، لیکن والد صاحب نے جو نام رکھا تھا وہ سب کو ہی پسند آیا، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں بکھری ہوئی تھیں، ہمارے ساس اور سسر بھی اپنے پہلے نواسے کو دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے اور والدین بھی پہلے پوتے کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، آخر کار بیگم سے رہا ہی نہیں گیا اور انکی نطریں میری ظرف جیسے ہی گھومیں میں نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں انہیں بیٹے کی مبارکباد دے دی،!!!!!!!

دسمبر 1981 کے آخری دن تھے اور سردی میں کچھ شدت بھی زوروں پر تھی، گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں بکھری ہوئی تھیں، بیگم اسپتال سے گھر پر منتقل ہو چکیں تھیں، مگر وہ بہت ہی زیادہ غمزدہ تھیں، کیونکہ وہ نہیں چاھتی تھیں کہ میں اس طرح باہر رھوں، اور سال میں ایک دفعہ چھٹی میں ملاقات ہو، اور اب تو ایک بچے کی ذمہ داری بھی تھی، میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ کچھ عرصہ مزید انتظار کرلو یا تو میں تمھیں مستقل ویزے پر بلوا لوں گا، یا پھر میں خود واپس اپنا تبادلہ پاکستان کرالونگا، اور میرا بھی اب بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا کہ واپس جاؤں، لیکن کیا کروں مجبوری تھی نوکری کا معاملہ تھا، اور بیگم نے بھی ڈھائی سال میں اب تک ایک دفعہ سعودی عرب کا چکر لگا چکی تھیں اور میں بھی یہ تیسری یا چوتھی مرتبہ پاکستان آیا تھا، لیکن پھر بھی ایک ایسا لگتا تھا کہ کچھ تشنگی باقی ہے،!!!!!!

شادی کے بعد ڈھائی سال میں اگر ڈھائی مہینے ساتھ رہیں تو یہ بھی ایک زیادتی ہے، میں نے یہ بھی سوچا کہ اگر کوئی بھی 20 سال کا عرصہ اگر باہر گزارتا ہے اور سالانہ چھٹی بھی آتا ہو تو اس 20 سال کے عرصہ میں صرف 20 مہینے یعنی کہ صرف دو سال سے بھی کم عرصہ وہ بھی قسطوں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ گزارنا بہت ہی زیادہ افسوس کی بات ہے،!!!!

میں نے لاکھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن بیگم بضد ہی رہیں کہ اب اور اس سے زیادہ بالکل بھی نہیں!!!!، بیگم بھی اپنی جگہ ٹھیک تھیں اور میں اپنی نوکری کی وجہ سے بھی مجبور تھا، کوئی دوسری نوکری ملنا بھی مشکل تھا، اور گھر والے بھی یہی چاھتے تھے کہ میں واپس چلا جاؤں، اپنی کشتی تو ایک منجھدار میں ‌پھنسی ہوئی ھچکولے کھارہی تھی، مگر بیگم اپنی ضد پر ہی اٹکی ہوئی تھیں، مجبوراً مجھے قسم کھانا پڑی، کہ میں اب تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگا، لیکن افسوس کہ میں حالات کے پیش نظر اپنی قسم کو برقرار نہ رکھ سکا، جس کا مجھے آج تک افسوس ہے، اور مجھے واپس جانا پڑا، اور اپنی بیگم کی آنکھوں میں آنسو دے کر رخصت ہوگیا، لیکن اس وعدے کے ساتھ کہ میں جلد ہی بلوالونگا،!!!!!

لیکن جو میں نے قسم توڑی تھی اسکا بہت ہی افسوس ہوا، بہرحال اللٌہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، واپس آکر چوتھے مہینے ہی میں نے دوبارہ بیگم اور بچے کا ویزا داخل کردیا اور بیگم اب دوسری مرتبہ اپنے بچے حبیب کے ساتھ پہنچ چکی تھیں، اور اس دفعہ سب سب بڑی بات کہ انہوں نے عمرہ کے ساتھ ساتھ حج کی سعادت بھی نصیب ہوگئی، اور ساتھ ہی انکی کچھ ناراضگی بھی کھی حد تک ختم ہو چکی تھی،!!!!!

اور ایک خاص بات کہ ہمارے بچے حبیب نے 6 یا 7 مہینے کی عمر میں ہم دونوں کے ساتھ 1982 میں سخت گرمیوں کے موسم میں حج کی سعادت بھی حاصل کی،!!!! میرا تو دوسرا حج تھا لیکن بیگم کا 6 مہینے کے بچے کے ساتھ یہ پہلا حج تھا، سخت ترین گرمیوں کے دن تھے، اور واقعی ہماری بیگم کی ہمت کی داد دینی پڑتی ہے کہ انہوں نے اس بچے کے ساتھ اور دھران سے مکہ مکرمہ تک بزریعہ کار تقریباً 26 گھنٹے کا سفر کیا جو ہم دوستوں نے مل کر ایک حج کا قافلہ ترتیب دیا تھا، اور سب کی فیملیوں کے ساتھ مل کر تقریباً چار گاڑیوں کا انتظام کیا تھا، !!!!!

بعض اوقات تو یہ چھوٹا چھ سات مہینے کا بچہ حبیب الرحمٰن گرمی سے بے چین ہو کر بہت چیخ و پکار کرتا تھا، اور نماز پڑھتے ہوئے خانہء کعبہ میں حج کے دوران یہ تپتے ہوئے فرش پر تڑپ رہا ہوتا تھا، کئی دفعہ تو اسے گود میں اٹھا کر بھی نماز پڑھنی پڑی، حج کے مکمل ہونے کے فوراً بعد ہی حبیب کی والدہ برداشت نہ کر سکیں اور بے ھوش ہوگی تھیں، جنہیں میں اپنے دوست کی گاڑی میں اسی بے ھوشی کے عالم میں طائف لے آیا تھا، جہاں ہماری کمپنی کا رھائیشی کمپاونڈ تھا، وہاں پر جاکر کچھ دوائی وغیرہ کھلائیں اور پورا دن آرام کیا تب کہیں جاکر وہ کچھ سنبھل گئیں، !!!!!!



یہ اللٌہ کا کرم و مہربانی ہی کی وجہ سے اور پیارے حبیب (ص) کے صدقے انکا حج مکمل ہوچکا تھا، اور حج کے بعد تو ہمارا بیٹا اور بھی صحت مند اور سب کی آنکھوں کا تارا ہوگیاا، اس کی معصوم شراتیں آج بھی مجھے یاد ہیں!!!!!

آج وہ بھی شادی شدہ ہے اور وہ ہماری پیاری بہو کے ساتھ ریاض میں مقیم ہے، ان دونوں کو خوش و خرم دیکھ کر مجھے اپنا وہی دور یاد آجاتا ہے،!!!!!!!
Back to top Go down
ملک بلال
Admin
avatar

Posts : 714
Join date : 26.11.2010

PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Mon Dec 20, 2010 1:14 pm

سید انکل حبیب بھائی کی انتیسویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ اپنی فیملی کے ساتھ خوش و خرم رکھے۔ آمین
Back to top Go down
ھارون رشید
ماہر
ماہر
avatar

Posts : 1369
Join date : 28.11.2010
Age : 44
Location : اوکاڑہ شریف

PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Mon Dec 20, 2010 2:36 pm

birthday سید بھائی دل کی گہرائیوں سے مبارک اور

__________________________________________________________________________________________________
sleepy
Back to top Go down
http://friends.forumotion.com/index.htm
نعیم
محسن
محسن


Posts : 317
Join date : 29.11.2010

PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Mon Dec 20, 2010 2:43 pm

سید بھائی ۔ بیٹے کی سالگرہ کی خوشیاں مبارک ہوں۔
اللہ تعالی آپکو اپنی فیملی کے ساتھ ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے۔ آمین
Back to top Go down
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 68
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Tue Dec 21, 2010 7:27 am

ملک بلال wrote:
سید انکل حبیب بھائی کی انتیسویں سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ اپنی فیملی کے ساتھ خوش و خرم رکھے۔ آمین

بہت بہت شکریہ بلال جی،!!!
خوش رہیں،!!!!
Back to top Go down
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 68
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Tue Dec 21, 2010 7:28 am

ھارون رشید wrote:
birthday سید بھائی دل کی گہرائیوں سے مبارک اور

بہت بہت شکریہ ھارون بھائی!!!
خوش رہیں،!!!!
Back to top Go down
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 68
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    Tue Dec 21, 2010 7:29 am

نعیم wrote:
سید بھائی ۔ بیٹے کی سالگرہ کی خوشیاں مبارک ہوں۔
اللہ تعالی آپکو اپنی فیملی کے ساتھ ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے۔ آمین

بہت بہت شکریہ نعیم بھائی!!!
خوش رہیں،!!!!
Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!    

Back to top Go down
 
کل میرے بڑے بیٹے کی 29 ویں سالگرہ ہے،!!!!
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: اردو ادب اور شاعری :: اردو نثر :: آپ کی تحاریر-
Jump to: