HomeHome  PortalPortal  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  MemberlistMemberlist  RegisterRegister  Log inLog in  

Share | 
 

 ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق

Go down 
AuthorMessage
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 67
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق   Tue Dec 21, 2010 9:31 am

میں جب یہ سوچتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کیا حاصل کیا، تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ حاصل کرنے کا مقصد دولت جائداد ہے یا کچھ اچھے سکون کے لمحات، مگر دل کچھ کہتا ہے اور دماغ سے کچھ اور ہی جواب آتا ہے،!!!!

ویسے میرے خیال میں جس بھی عمل سے سکون قلب حاصل ہو، اسے میں اپنے جانتے میں بہترین زندگی کے حصول کے مقصد کو پانا سمجھتا ہوں، لوگ اسے اکثر کتابی باتیں بھی کہتے ہیں، مگر کتابیں بھی تو انسانوں نے اپنی زندگی کے مشاہدات کی روشنی میں ہی لکھی ہیں، مقبول وہی ہوئے جنہیں لکھنے کا صحیح سلیقہ اور اس لکھاری کے پیشہ کے اعتبار سے ھنرمندی میں جواب نہیں رکھتے ہیں،!!!!!!

ہم تو بس بے مقصد جو بھی زبان پر آتا ہے لکھنے کا صحیح ربط معلوم نہیں، لیکن بس لکھتے چلے جاتے ہیں، میری یہی خوش قسمتی رہی ہے کہ میں نے ماضی کے کل سے اور حال کے آج تک، ہر دور کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے، جسے میں اپنی کہانی میں لکھ بھی رہا ہوں، لیکن ہوسکتا ہے کہ وہ انداز بیان نہیں ہے جیسا کہ کسی معروف اور مستند ادیب کے پاس ہونا چاہئے،!!!!!

جس کی وجہ شاید یہ بھی رہی ہو کہ میں نے اپنے اس ادب اور آرٹ کے شوق کو چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر 35 سال کے عرصہ تک اپنے سے دور رکھا اور اسی دوران ادبی محفلوں سے بھی کٹ چکا تھا، جب وہ بیٹھکیں نہیں رہی اور اہل علم ادب کی شخصیات سے ملاقات کا بھی شرف حاصل نہ رہا، تو یہ کیسے ممکن تھا کہ میں اپنی لکھائی میں وہ خوشنمائی لاسکتا تھا جسکی وجہ سے پڑھنے والوں میں کوئی دلچسپی پیدا ہوسکتی ہو،!!!!!

1971 سے 2006 تک میں نے اپنے ہر شوق کا بالائے طاق رکھ دیا تھا، لیکن دل سے وہ جنون شوق کو ختم نہ کرسکا، آخر کار اس شوق نے دوبارا میری زندگی میں جنم لیا، جب مجھے خود بخود اپنی سروس کے دوران ہی انتظامیہ کی طرف سے انٹر نیٹ استعمال کرنے کی سہولت مل گئی اور جب تک میرے کام میں کچھ آسانیوں کی وجہ سے یا یہ کہہ لیجئے کہ میرے شاگردوں نے مجھے زیادہ محنت نہیں کرنے دی، بلکہ انہوں نے اپنی اپنی تمام تر ذمہ داریاں ایمانداری سے اٹھالیں، جہاں مجھے مداخلت کی ضرورت بھی نہیں پڑی،!!!!

اس وقت سے موقع کو غنیمت جان کر میں نے انٹر نیٹ پر اردو ادب کی محفلوں کو ڈھونڈنا شروع کردیا، اور کئی اردو محفلوں میں جاکر اپنے آپ کو شامل بھی کرلیا کچھ اپنی یاداشتوں کو سمیٹنے کی کوشش کی، اکثر اردو کی محفلوں میں اچھی خاصی حوصلہ افزائی بھی ملی، جس سے کچھ مزید ہمت بڑھی،اپنے دوستوں کی مدد سے بلاگ کو شروع بھی کیا اور کافی حد تک لکھنے کے بعد وہ صفحہ ہستی سے ہی غائب ہوگیا اور چند ایک اردو ویب سائٹ بھی بند ہوگئیں، جس کا بہت افسوس ہوا کہ میں کوئی بھی کسی بھی اپنی تحاریر کا ذخیرہ اپنے پاس نہ کرسکا،!!!!!

بحرحال اب جو بھی زندگی پڑی ہے، اپنی ہی تجربات کی روشنی میں مجھ سے جو بھی ہوسکتا ہے میں لکھنے کی مشق جاری رکھے ہوئے ہوں، جہاں جہاں موقع ملتا ہے کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش کرتا ہوں، اور کچھ اپنی لکھائی دل کو اچھی لگتی ہے تو کئی جگہ کاپی پیسٹ کرکے اپنا کام بھی چلا لیتا ہوں،!!!!

اس عمر میں بس مجھے دوسروں سے اپنی ماضی میں گزرے ہوئے واقعات کے بارے میں باتیں شئیر کرنا بہت اچھا لگتا ہے، بہت کم لوگ دھیان سے سنتے ہیں لیکن اکثر تو جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اب لوگوں کے پاس اتنا زیادہ وقت نہیں ہے، اور ویسے بھی زیادہ تر لوگ اپنی باتیں سنانا پسند کرتے ہیں، لیکن دوسروں کی سننے سے گریز کرتے ہیں، مگر میں تو لوگوں کی سنتا بھی ہوں اور اپنی باتوں سے دوسروں کو قائل کرنے کی حتی الامکان بہت کوشش کرتا ہوں،!!!!ورنہ تو اردو ویب سائٹس پر اپنا شوق تو پورا کر ہی لیتا ہوں،!!!!!

بہت کچھ تو اپنی کہانی اپنی زبانی میں لکھ چکا ہوں، یہاں پر خاص خاص چند باتیں ضرور شئیر کروں گا جو میں پہلے تفصیل سے نہ لکھ سکا یا مجھ سے لکھنے میں رہ گئے،،،،

ہمیں بچپن میں اپنے والدین اور باہر دوسروں سے بہت کچھ سننے کو ملتا تھا جس کا کہ ہم یقین نہیں کرپاتے تھے، یا وہ ہمارے سر کے اوپر سے گزر جاتی تھی، لیکن آج اب احساس ہوتا ہے کہ وہ سنی گئی باتیں واقعی صحیح تھیں،!!!!

مثلاً یہ اکثر سنتے تھے کہ ہمارے دادا تایا کے زمانے میں تنخواہیں 15 روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں تھیں اور وہ اس میں سے بھی لوگ 5 روپے بچا لیتے تھے،!!!! ہمیں اس لئے یقین نہیں آتا تھا کیونکہ اس وقت ہمارے ابا کی تنخواہ تقریباً 150 روپے ماہانہ تھی، جس میں سے وہ بھی 50 روپے تک ہر مہینے ضرور بچالیتے تھے، کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ ہر مہینے پوسٹ آفس جاکر خود جمع کرانے جاتے تھے اور میں تو زیادہ تر ان کے ساتھ ہی رہتا تھا خود میں نے پوسٹ آفس کی پاس بک میں ہر مہینے 50 یا 60 روپے کا اندراج دیکھا بھی تھا،!!!

اور بہت ہی کم کبھی کچھ ضرور پڑنے پر رقم نکالی ہونگی، لیکن ایسی بہت کم ہی ضرورت پڑتی تھی، یہ وقت شاید 1960 سے لے کر 1970 تک کا ہی ہو گا، جب میری عمر 10 سال سے لیکر 20 سال تک ہوگی،!!!!! کہتے ہیں کہ اسی وقت سے مہنگائی کا آغاز ہوا، مجھے کچھ یاد ہے کہ چینی کی قیمت 3 یا ساڑے 3 روپے سیر تک پہنچی تو مہنگائی کے لئے وقت حاکم کے خلاف ھنگامے شروع ہوگئے تھے، اور سیاسی گہماگہمی کا آغاز بھی ہوچکا تھا،!!!!!!

جاری ہے،!!!!
Back to top Go down
ملک بلال
Admin
avatar

Posts : 714
Join date : 26.11.2010

PostSubject: Re: ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق   Wed Dec 22, 2010 12:11 am

سید انکل بہت اچھا لگا آپ نے دوبارہ یادداشتوں کو قلمبند کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ باقی اس چیز کی فکر نہ کیا کریں کہ کوئی غور سے پڑھتا ہے یا نہیں جو پڑھنا چاہتے ہیں وہ پڑھتے ہیں اور اس بات کا اندازہ تو آپ کو بھی بخوبی ہو گا کہ کچھ اچھا پڑھنے والے اور اچھی چیز کے متلاشی لوگ کم ہی ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے آپ کو شاید یہ شکایت ہے لیکن آپ یہ دیکھیں کہ کم چاہے کم لوگ پڑھتے ہوں لیکن اچھا ذوق اور اچھی سوچ رکھنے والے ہی پڑھتے ہوں گے۔
Back to top Go down
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 67
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: Re: ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق   Wed Dec 22, 2010 7:59 am

یہ وقت شاید 1960 سے لے کر 1970 تک کا ہی ہو گا، جب میری عمر 10 سال سے لیکر 20 سال تک ہوگی،!!!!! کہتے ہیں کہ اسی وقت سے مہنگائی کا آغاز ہوا، مجھے کچھ یاد ہے کہ چینی کی قیمت 3 یا ساڑے 3 روپے سیر تک پہنچی تو مہنگائی کے لئے وقت حاکم کے خلاف ھنگامے شروع ہوگئے تھے، اور سیاسی گہماگہمی کا آغاز بھی ہوچکا تھا،!!!!!!

شروع کے وقت میں لوگوں میں اتنی سیاسی سوجھ بوجھ نہیں تھی، لیکن خبریں سننے میں تو وہ سب پان کی دکان یا کسی کھانے پینے کے دھابے کے پاس جاکر ریڈیو سے خبریں ضرور سنتے تھے، ریڈیو تو بہت ہی کم لوگوں کے پاس تھا، اور ٹیلیویژن کا تو دور دور تک کسی کو گمان بھی نہیں تھا، لیکن لوگ بتاتے تھے، کہ اب کچھ عرصہ بعد ایسا ریڈیو بھی آئے گا جس پر خبریں پڑھنے والے کی تصویر بھی آیا کرے گی،!!!!!

خان صاحب کے چائے کے ہوٹل پر تو اکثر لوگ گراموفون پر گانے سننے جاتے تھے، جو چابی بھرنے سے چلتا تھا، اور اس پر ایک بڑا سا گول رکارڈ لگا کر اس پر گراموفون کی سوئی رکھ دیتے تھے، اور گانا شروع، ہر رکارڈ بدلنے کے ساتھ سوئی کو بھی بدلتے رہتے،!!!!!!

محلے میں بہت کم ایک دو گھروں میں ہی ریڈیو ہوا کرتا تھا، جو بیٹری سیل سے ہی چلتا تھا، کیونکہ ہمارے محلے میں بجلی نہیں تھی، اور تاثر تو یہ تھا کہ جن کے یہاں ریڈیو ہے وہ لوگ امیر ہیں، کبھی اگر ہم کسی کے سرکاری گھر میں جاتے تو وہاں بجلی کے بٹن کو خوب چھیڑتے اور دیکھتے کہ بلب کس طرح جلتا ہے، سرکاری گھروں میں پرانے بوسیدہ سے بلب کی ٹمٹماتی ہوئی روشنی، اور جو چھت کے پنکھے ہوتے اس میں تو ایسی زور زور سے مختلف ڈراونی قسم کی آوازیں آتیں کہ جیسے کوئی چرخہ چل رہا ہو اور ایسا لگتا تھا کہ جیسے اب گرا،!!!!!

اس سے تو اچھے ہمارے گھر کے ہاتھ کے پنکھے تھے، اور وہاں کے بجلی کے بلب سے بہتر روشنی تو ہماری لالٹین کی تھی، ہمارے گھر کے صحن کے پاس ایک ایک گورنمنٹ کے محکمہ کا بجلی کا کھمبا لگا ہوا تھا، وہاں سے روشنی سیدھے ہمارے صحن میں بھی آتی تھی، اس روشنی میں ہم بہن بھائی پڑھتے تھے، اور اسکول کا کام بھی کرتے،!!!!

1968 تک ہم اسی کچے گھر میں رہے اور میں نے تو اسی گھر میں انٹر تک تعلیم بھی مکمل کی، کچھ بات تو تھی اس گھر میں،!!!! اس محلہ میں!!!! اس علاقے میں،!!!! مجھے تو بہت ہی اچھا لگتا تھا، سب لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک تھا، سادگی تھی، ہم سب بچوب میں شرارتی بھی تھے، لیکن جھگڑتے بھی اور کچھ دیر بعد دوستی بھی ہوجاتی تھی، لیکن والدین کبھی بھی ہم بچوں کے لڑائی جگھڑوں میں الجھتے نہیں تھے، ہم اگر شکایت بھی کرتے تو وہ پیار محبت سے سمجھا کر بھگا دیتے تھے،!!!!!

وہاں کے گھروں کی مٹی کی بھینی بھینی خوشبو، خاص کر بارشوں کے دوران تو مہک اور بھی بڑھ ہوجاتی، جس میں ایک اپنائیت کی خوشبو آتی تھی، مٹکوں کا ٹھنڈا پانی اتنا مزے کا ہوتا کہ دل میں ٹھنڈ پڑجاتی تھی، اسکول سے واپس آکر ھم سب پانی پینے کیلئے لپکتے تھے، جبکہ والدہ چیختی رہتی کہ ابھی کچھ سانس تو لے لو،!!!!!!

اسکول کیلئے ہمیں ہر دوسرے روز ایک یا دو پیسے ملا کرتے جس میں ہم بہت خوش تھے، چھوٹی عید یا بقر عید کے دن ہمیں کوئی عیدی ملتی بھی تو زیادہ سے زیادہ چار آنے جو ہمارے لئے بہت تھے، وہ بھی والدہ ہم سے واپس لے لیتیں اور ہاتھ میں ایک آنہ تھما دیتی تھیں، اس میں بھی ہم کوئی اعتراض نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ ایک آنے میں بھی کم سے کم چار چیزیں مل جاتی تھیں،!!!!

چھوٹی عید یا بقر عید پر ہی ایک دو کپڑے کے جوڑے بن جاتے تھے، جو ہم پورا سال اسے چلاتے تھے، ساتھ ہی اسکول کے دو جوڑے یونیفارم کے بنتے تھے وہ بھی تقریباً پورا سال ہی چل جاتے تھے، جب بھی کوئی جوڑا بنتا تھا یا ریڈی میڈ خریدنے جاتے تو والد صاحب کچھ ناپ میں ڈھیلا ہی خریدتے یا سلواتے تھے، تاکہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ کچھ زیادہ عرصہ تک چل سکیں،!!!! تقریباً اس وقت مجھے یاد ہے کہ ایک جوڑا سات یا آٹھ روپے کا بن جاتا تھا، اور دس روپے میں تو شاندار عید کا جوڑا تیار ملتا تھا،!!!!!

اس وقت زیادہ تر لوگ بہت ہی زیادہ کفایت شعاری اور سادگی سے زندگی بسر کرتے اور اپنی اسی قلیل آمدنی میں گزارا کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ پیسے بچا بھی لیا کرتے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر کام آسکے،!!!!!

جاری ہے،!!!!
Back to top Go down
armansyed
معاون
avatar

Posts : 58
Join date : 30.11.2010
Age : 67
Location : Jeddah, Saudi Arabia

PostSubject: Re: ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق   Wed Dec 22, 2010 10:02 am

اس وقت زیادہ تر لوگ بہت ہی زیادہ کفایت شعاری اور سادگی سے زندگی بسر کرتے اور اپنی اسی قلیل آمدنی میں گزارا کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ پیسے بچا بھی لیا کرتے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر کام آسکے،!!!!!

آج آپ لوگ بھی کیا سوچتے ہونگے کہ یہ کیا مشکل ہے، کہ اب بھی یہ پرانے دقیانوسی لوگ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتے، اپنی کہانی سنا سنا کر پکا دیتے ہیں، آپ بھی صحیح ہیں، کیونکہ اب یہ ہماری آخری کھیپ چل رہی ہے اور نہ جانے کب اور کسی گلی میں ہماری شام ہوجائے، پھر آپ ان لوگوں کو ڈھونڈتے پھرو گے، لیکن وہ لوگ پھر نہیں ملیں گے، مطالعہ کا کبھی شوق ہوا کرتا تھا، اسی بہانے سے پرانے زمانے کے لوگوں کو یاد رکھ لیتے تھے، لوگ وقت گزاری کیلئے اپنے اپنے مطلب اور شوق کی کتابیں پڑھتے تھے، کوئی تو سائنس اور مختلف رسرچ کی کتابیں دیکھ رہے ہیں اور کچھ رومانی، مزاحیہ، یا جاسوسی ناول، نہیں تو کسی شعر و شاعری کی محفل میں اشعار سن کر واہ واہ کرتے نظر آتے، کچھ نہیں تو قوالیوں کی محفلوں میں جاکر اپنا سر ہی گھماتے رہتے، یا پھر کسی سینما کی لائن میں لگ کر کوئی بھی فلم دیکھ کر تین گھنٹے اپنا دل بہلا لیتے تھے،!!!!

اب تو شوق اور دلچسپی کا معیار اتنا بلند ہوگیا ہے، کہ کسی کے پاس اب اتنا وقت نہیں ہے کہ کتابوں کی طرف دھیان چلا جائے، لوگ پہلے لائبریریوں کی طرف بہت ذوق شوق سے جایا کرتے تھے، اب تو وہ لائبریریاں ہی نہیں، بہت کم وہاں بھی اکا دکا کوئی عمر رسیدہ شخص اپنے گھر سے تنگ آکر بیٹھا کتابوں کے اوراق الٹ پلٹ کرتا ہوا ملے گا، خیر گھومنے پھرنے کا شوق تو ابھی تک قائم ہے، لیکن قدرے تھوڑی بہت معمولی سی اس میں بھی کمی آگئی ہے، کیونکہ گھر بیٹھے جو تفریحات آپ کے سامنے ہیں، اب تو دن بھر دفتر میں کرسیوں پر اور گھر آکر صوفوں پر نیم دراز ہوگئے، اور ٹی وی کا رمورٹ پکڑ لیا، ساتھ ہی اپنا لیب ٹاپ بھی کھول لیا، اور ساتھ ساتھ موبائیل کی گھنٹی بھی مدھر سروں کی طرف بھی دھیان ہے،پسند ہو تو آواز سن لیتے ہیں، ورنہ بند، نہ جانے کسی کو کیا ضرورت تھی، ان چیزوں کی وجہ سے لوگوں کا باہر آناجانا اور تعلقات قائم رکھنا بھی بہت کم ہوگیا ہے، اب تو آدھی ملاقات اور بہت سارے باہر کے کام کاج موبائیل پر ہی ہوجاتے ہیں، اب تو خیر ہر بچےکے پاس ایک سے ایک مہنگا ترین موبائیل ہے، ان میں سے اکثر تو بستروں میں ہی گھس کر موسیقی سے اپنا دل بہلا لیتے ہیں یا دوستوں کو میسیج پر میسیج کئے چلے جاتے ہیں، !!!!!

پرانی ہم جیسوں کی بیگمات کو تو موبائیل ڈائیل تک کرنا ہی نہیں آتا، وہ تو بچوں کی ہی محتاج ہیں، اور نہ ہی انہوں نے کچھ سیکھنا گوارا کیا، ہم سے بھی بات کرنی ہو تو بچوں کے آنے کا انتظار کرتی ہیں،!!!!!

ارے میں بھی کہاں پہنچ گیا، بات ہو رہی تھی ہمارے پرانے زمانے کی، نئے زمانے میں تو ہر قسم کی سہولتیں موجود تو ہیں لیکن، نقصان کیا ہوا شاید اس طرف کسی کا دھیان نہیں ہے،!!!!

پہلے ہم نے اپنے بچپن میں اپنی والدہ کو اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھوتے ہوئے دیکھا وہ بھی سستے صابون کی بٹیوں سے رگڑ رگڑ کر کچھ زیادہ گندے کپڑے ہوئے تو اسے ایک لکڑی کے ڈنڈے سے ہی کوٹ دیا، استری کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی، کیونکہ کپڑوں کو ہاتھ سے ہی تہہ کرکے مختلف تکیوں کے نیچے یا رضائی گدوں کے اسٹاک کے نیچے دبا دیتے اور صبح تک کپڑے بالکل استری جیسے تیار ملتے تھے، اس وقت تو واشنگ مشین اور سرف کے پاوڈر کا تو کوئی ذکر ہی نہیں تھا، دھوبی بھی ان کپڑوں کو گرم پانی کی بھٹی پر کاسٹگ سوڈا ڈال کر چڑھا دیتے تھے اور پھر نہر کے کنارے پتھروں پر یا دھوبی گھاٹ پر کپڑوں کو پچھاڑتے، اور پھر کلف لگا کر، استری کرکے ایسا اکڑا دیتے کہ انہیں پہنتے ہوئے بہت مشکل پیش آتی تھی، وہ کیا مشکل تھی شاید کوئی ہمارے ہم عمر بزرگ ہی بتا سکتے ہیں،!!!!!

لکڑی کے چولہے پر والدہ کو ہمیشہ مٹی کی ھانڈیوں میں کھانا پکاتے ہوئے دیکھا، اب تو فیشن کے طور پر "مٹن ہانڈی" کی ڈش تیار اونچے ریسٹورانٹ میں ہی ملتی ہے، ہماری والدہ تو ساتھ پھوکنی سے کچی لکڑیوں میں ضرورت کے مطابق پھونک مار مار کر آگ کو تیز کرتی تھیں اور مصالے سل بٹے پر اپنے ہاتھوں سے پیستی تھیں، ان کھانوں کا ذائقہ اتنا مزیدا ہوتا تھا کہ اب تک ان کھانوں کی یاد آتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ میری والدہ کی صحت ماشااللٌہ اب تک اللٌہ کے کرم سے بہت بہتر ہے، وہ اب بھی اپنے کپڑے خود اپنے ہاتھوں سے دھوتی ہیں، گھر پر کھانا خود بناتی ہیں، کسی کے ہاتھ کا کھانا ان کو پسند ہی نہیں آتا، میں اپنی فیملی کے ساتھ جب پاکستان چھٹی جاتا ہوں تو وہ اب بھی ہمیں اپنے ہاتھوں سے مزیدار کھانا پکا کر کھلاتی ہیں، وہ اس وقت بھی اتنی ہمت رکھتی ہیں کہ اب تک وہ سل بٹے پر مصالہ پیستی ہیں، اپنے کمرے کی صفائی تک وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرتی ہیں، بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ان کی بہو یا بیٹی ان کی مدد کردے، کبھی اگر وہ بیمار ہوں تو مجبوری ہوجاتی ہے، ان کا کمرہ ان کی عبادت اور تلاوت کرنے کی جگہ بھی ہے، اس لئے اس کی صاف ستھرائی کا خیال بھی خود ہی رکھتی ہیں،!!!!

ویسے بھی آپ اپنے گھر میں بڑی بوڑھی بزرگ خواتین کو دیکھ لیں، وہ اسی طرح اپنے ہاتھوں سے ہی گھر کے سارے کام انجام دیتی ہیں، وہ کپڑے بھی سیتی ہیں اور سوئی میں دھاگا بغیر چشمہ کے آسانی سے ڈال بھی لیتی ہیں، جس کی وجہ سے اب تک ان کی صحت بہت اچھی ہے، اکثر بزرگ خواتین تو بچوں کے سوئیٹر ہی بنتی رہتی ہیں، گھر پر ہوں یا سفر میں ان کے ہاتھ پیر چلتے ہی رہتے ہیں، اب بھی ادھر ادھر پیدل جانے پر زیادہ زور دیتی ہیں، سادگی کی زندگی ابھی تک انہیں پسند ہے، وہ اپنی بہو بیٹیوں کو اس عمل کی تلقین بھی کرتی ہیں، لیکن آج کل تو زیادہ تر عورتیں اور بچیاں اپنی سہولتوں کی طرف زیادہ دیکھتی ہیں، بڑے گھروں میں تو جیم خانہ جاکر ورزش ضرور کریں گی اور پسینہ اور پیسہ ضرور بہائیں گی لیکن گھر کے کاموں سے دور بھاگتی ہیں،!!!!



خواتین سے معذرت کے ساتھ !!!!!!

جاری ہے،!!!!
Back to top Go down
Sponsored content




PostSubject: Re: ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق   

Back to top Go down
 
ماضی کی ڈائری کے چند اہم گمشدہ اوراق
Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: اردو ادب اور شاعری :: اردو نثر :: آپ کی تحاریر-
Jump to: